Text Poetry

تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے

Poet, Poetry, Text Poetry
تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے ہم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق کم نگاہی کے لیے عذر نا چاہے جاتے کاش اے ابرِ بہاری! تیرے بہکے سے قدم میری امید کے صحرا بھی گاہے جاتے ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے ہے فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ اور کچھ دن غم ہستی سے نبھائے جاتے شان الحق حقی

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے

Poet, Poetry, Text Poetry
دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے یہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتے دل کے سب نقش تھے ہاتھوں کی لکیروں جیسے نقشِ پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے تھی کبھی راہ جو ہمراہ گزرنے والی اب حذر ہوتا ہے اس رات سے آتے جاتے شہرِ بے مہر کبھی ہم کو بھی مہلت دیتا ایک دیا ہم بھی کسی رخ سے جلاتے جاتے پارۂ ابر گریزاں تھے کہ موسم اپنے دُور بھی رہتے مگر پاس بھی آتے جاتے ہر گھڑی اک جدا غم ہے جدائی اس کی غم کی میعاد بھی وہ لے گیا جاتے جاتے اُ س کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔ اتنے آئے تھے تو آواز لگاتے جاتے نصیر ترابی

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

Poet, Poetry, Text Poetry
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں‌بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے احمد فراز